ہندو شیطان کو حاضر کرنے کے عملیات

کل جادو کے عملیات میں سب سے موثر جانے والا عمل چوکی کامل کہلاتا ہے اس عمل کے اندر عامل خاص انداز میں زمین پر ایک چار کونوں والی شکل بناتا ہے جس سے وہ چوکی کا نام دیتا ہے۔ہندو مذہب کے اندر کسی بھی چیز کو بلانے کے لئے چوکی کا عمل استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہندومت کے اندر جتنی بھی شیطانی چیزیں ہیں ان کو بلانے کے لیے اسی طرح کے عمل کیے جاتے ہیں۔ہندومت کے اندر شیخ سدو ایک جادوگر گزرا ہے جو کہ اس قسم کے عملیات کا ماہر جانا جاتا تھا آج کے دور میں بھی ہندومت کے ماننے والے اس کے نام سے شیطان کی پر اتنا کرتے ہیں۔

غرض یہ کہ اگر دیکھا جائے تو اس قسم کے تمام عملیات ناصرف ناجائز ہیں بلکہ ایسا کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔کیونکہ جادو کے اندر مختلف قسم کے کلمات اور منتر زیادہ تر کفر و شر پر مبنی ہوتے ہیں اس لئے اس قسم کے عملیات کرنے سے انسان در اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

دو گناہ ایسے ہیں جن کو کرنے والا اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ جنگ پر آمادہ کرلیتا ہے۔ان میں سے ایک شرک ہے اور جادو اس وقت تک کام نہیں کرتا جب تک کفر اور شرک پر مبنی منتر پڑھا نا جاے۔دوسرا گناہ سود ہے اور اللہ نے ان دونوں چیزوں کو ناپسند کیا ہے۔

اب چوکی کے عمل کی طرف آتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے اور اس کے کیا لوازمات ہیں۔چوکی کامل کرنے والا سب سے پہلے بہت ساری چیزیں ہیں جوک و شیاطین کو پسند ہوتی ہیں لے آتا ہے جن میں خون سندور شراب کالا بکرا مختلف قسم کے خوشبو وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان چیزوں کے ذریعہ سے جادوگر اس شیطانی چیز کا منتر پڑھ کر ان کے آگے بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔اس طرح جادوگر خاص دنوں کے حساب سے 5 7 11 دنوں کے تعین سے اس کام کا آغاز کر دیتا ہے۔

اس دوران میں اس نسل سے تعلق رکھنے والی شیطانی چیز حاضر ہو جاتی ہے اور جادو گر سے قول و قرار کرتی ھے کہ وہ کسی بھی شخص کو تنگ کرے گی یا کسی کا دماغ جکرلی گئی یہ کسی بھی شخص   کو کسی کے محبت میں فریفتہ کر دے گی۔اس کے علاوہ بھی اللہ نے شیطان کو طاقت دی ہے کہ وہ خود سے جادو کر سکتے ہیں اس طرح جادوگر سے قول و قرار کرنے کے بعد وہ چیز یعنی شیطان اس شخص پر حملہ آور ہو جاتے ہیں جسکا جادوگروں نے کہتا ہے۔

یہ قدیم طریقہ کار ہے جو کہ بابل اور کلدان کے لوگ استعمال کیا کرتے تھے اور یہی وہ قوم میں جن پر ہاروت وماروت نازل ہوئے تھے۔اس طرح یہ قدیم طریقہ آج کے دور میں بھی افریقہ انڈونیشیا پاکستان انڈیا امریکہ لندن اور یورپ کے وہ سارے ممالک میں آج بھی جادوگر اس قسم کے طریقہ کار سے لوگوں پر جادو کر رہے ہیں۔

جادوگر کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس چوکی کے اندر شیطان اس کی حفاظت کرتا ہے جہاں تک وہ شیطانی منتر پڑھ کے دائرہ لگا دیتا ہے وہاں تک وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتا ہے حالانکہ اس کے برعکس ہے کیونکہ جب بھی کوئی شخص کلام اللہ کی تلاوت کرتا ہے اور اپنی عبادت کو لمبا کر دیتا ہے تو اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور یہ تمام جادو واپس جادوگر کی طرف لوٹ جاتا ہے۔اس طرح آج کے دور میں بہت سارے جادوگروں کا یہی خیال ہے کہ وہ یہ کام کر رہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ ایک دن انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہونا ہے اور آخرت میں بھی اللہ کے آگے منہ دکھانا ہے۔

اس لیے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جادو کر سکتا ہے کروا سکتا ہے تو اس سے دور رہنا بہتر ہے بجاۓ اس کے کہ جب وہ شخص ڈوب رہا ہوں تو آپ بھی اس کے ساتھ برابر کے شریک ہوں اگر کوئی ایسا کام آپ کو اپنی زندگی میں پہلے کر چکے ہیں تو اللہ سے اس کی توبہ کریں۔

No comments:

Post a Comment